22 نومبر 2011 - 20:30

امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی متنازعہ خط کے بعد مستعفی ہوگئے ہیں اور انھوں نے کہا ہے کہ وہ انکوائر ی کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔

ابنا: امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی  متنازعہ خط کے بعد مستعفی ہوگئے ہیں اور انھوں نے کہا ہے کہ وہ انکوائر ی کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔ حسین حقانی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ذات کے تنازعے کو جمہوریت اور ملک کے لیے نقصان دہ نہیں بننے دینگے۔انھوں نے کہا کہ وہ انکوائری کے دوران کہیں نہیں جائیں گے اور یہیں رہ کر ساری صورتحال کا سامنا کرینگے۔اس سے قبل وہ آج عسکری اور سول قیادت کے سامنے پیش ہوئے اور انھوں نے اپنا موقف پیش کیا۔پاکستانی ذرائع کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی سے استعفیٰ لے لیا ہے اور متنازعہ خط پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ حسین حقانی نےاس  الزام کے پس منظر استعفی دیا ہے کہ انہوں نے اس سال مئی میں پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے ایک ہفتے بعد اس وقت کے امریکی افواج کے سربراہ جنرل مائیک مولن کو ایک خط بھجوایا تھا جس میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کے کسی ممکنہ فوجی اقدام کے خلاف امریکہ سے مدد طلب کی تھی۔پاکستان کےوزیر اعظم ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس متنازعہ خط پر تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔بیان کے مطابق استعفے کا مقصد متنازعہ خط کی غیر جانبدار تحقیقات کرنا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ متنازعہ خط کے حوالے سے جو بھی ملوث ہے ان سب کو صفائی پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔ ’اور تحقیقات صاف، شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے کی جائیں گی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے ’متنازعہ خط کے تیار کرنے، لکھے جانے اور امریکی حکام تک پہنچانے کے باعث یہ ضروری ہو گیا ہے کہ قومی سلامتی کی خاطر حقائق معلوم کیے جائیں۔.....

/169